© NMPak | GlobalNewsArt via

برادر اقوام



ریاست کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ اس کی اکائی خاندان ہے۔ جس میں ایک “باپ” سربراہ دوسری “ماں” نائب اور باقی ممبران شامل ہوتے ہیں۔ خاندانوں سے ہی گاؤں محلہ اور معاشرہ وجود میں آتا ھے جس کی آخری صورت شہر ہے۔ یونان میں شہر کو ہی ریاست کہا جاتا تھا جس میں ریاست کا سربراہ، عدلیہ، پولیس، فوج، سینٹ اور اسمبلیاں ہوتے تھے جو ریاستی امور کو چلانے کے فرائض انجام دیتے تھے۔ ہر ریاست مختلف اقوام، عقاید، رنگ نسل اور زبانیں بولنے والے خاندانوں اور گلی محلوں سے مل کر بنتی ہیں۔ یہ سب گلی محلوں میں ہمسایہ اور شہر کے اندر “ریاستی بھائی بند” کہلاتے ہیں۔ ایک ریاست اس وقت تک امن، خوشحالی اور ترقی کی راہ پر نہیں چل سکتی جب تک اس میں بسنے والے تمام اقوام آپس میں سانجھی نہ ہوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نہ ہوں، عوام کی جڑت سے ہی ریاست امن ، خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔
کوئٹہ بھی ایک ایسی ریاست ہے جو بلوچستان کا کیپٹل ہے۔ اس ریاست کو آباد کرنے میں مختلف رنگ نسل عقاید اور زبانیں بولنے والے خاندان اور اقوام شامل رہے ہیں جس کی تاریخ چھ ھزار سال قبل مسیح تک پھیلا ہوا ہے اور “مہر گڑھ کے آثار” اب بھی قدیم ترین تہذیب کی گواہی کے لئے موجود ہے۔ تہذیبوں کے ارتقا میں کوئٹہ کا نام پہلی صفوں میں آتا ہے جس پر تحقیق اور تحریر نہیں ہوا ہے جبکہ آثار قدیمہ کے ریکارڈ میں اس کے شواہد موجود ہیں۔
تقسیم ہند سے قبل یہاں ہندووں اور سکھوں کی کثیر تعداد آباد تھیں جس کی زمینوں دکانوں اور مکانوں پر تقسیم کے بعد مسلمان قابض ہوگئے۔ سارے سکھ چلے گئے جو رہ گئے ان میں سے یا تو مسلمان ھوگئے یا عیسائی بن گئے۔ البتہ ہندو نسل اپنے عقیدے اور ثقافت کے ساتھ اب بھی کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر چھوٹے شہروں میں موجود ہیں۔
بلوچستان ہر لحاظ سے ایک مالا مال خطہ ہے۔ بیش بہا قدرتی معدنیات، دنیا کے بہترین ساحلی علاقے، سونے چاندی اور گیس کے قیمتی زخایر پر ملٹی نیشنل کمپینیوں کی رالیں ٹپکتی ہیں جنہوں نے بلوچستان کی دولت کو لوٹنے کے لئے اپنے دلالوں کے ذریعے عوام کو تقسیم در تقسیم کر کے برادر اقوام کو ایک دوسرے کے خلاف عقیدے اور قومیت کے نام پر لڑانے میں مصروف رکھا ہے جس کی ترویج میں ہمارے میڈیا سب سے آگے آگے ہیں ٹالک شوز کے ماہر صحافی سنسنی پھیلانے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے وہ اس بُل فائٹر کی طرح ہیں جو سانڈ کو تیروں سے زخم لگا کر سرخ کپڑا دکھاتے ہیں اور پھر ان کا کھیل تماشا بنا کر داد و تحسین سمیٹے ہیں۔ برادر اقوام کو دست و گریبان کرانے کے پیچھے این جی اوز دانشوروں اور ملٹی نیشنل کمپینیوں کے میڈیا ورکروں کا کردار بھی واضح ہے ۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں سیاسی عمل تک مداخلت کرتی ہیں۔ وہ اپنا اثر رسوخ ہر جگہ استعمال کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر شوکت عزیز جو پانچ سال تک پاکستان کا وزیر اعظم رہا وہ کون تھا؟ وہ کمپنی کا ملازم تھا جس نے عوامی اثاثوں اور قدرتی زخایر کو کمپنیوں کے پاس گروی رکھنے کے مشن کو پایہء تکمیل تک پہنچایا اور واپس چلا گیا۔ جتنا نقصان اس ایک کمپنی ملازم نے وزیراعظم بن کر بلوچستان کو پہنچایا اتنا نقصان بلوچستان کی تاریخ میں کسی سردار نے آج تک نہیں پہنچایا۔
بلوچستان کے قیمتی وسائل پر مدتوں سے ہاتھ صاف کئے جا رہے ہیں۔ ساحلی بندر گاہیں کمپنیوں کی گزرگاہیں بنا دی گئیں ہیں جن سے کھربوں ڈالر کمائے جاتے ہیں مگر عوام بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم کر دی گئی ہے۔
سیاست کو جھوٹ کا ہم معنی بنا دیا گیا ہے اور اسی کے توسط سے نفرتوں کے اتنے بیج بوئے گئے ہیں جس کو شاید ہماری نئی نسلوں کو کاٹنی پڑے۔ سب غصے اور شکوے میں مبتلا ہیں سیاست کے نام پر عجیب و غریب تماشے ہوتے ہیں صوبائی خود مختاری اور عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کی بجائے بے اختیار اقتدار پر سمجھوتے کئے جاتے ہیں اور عوام کے دکھ درد محرومیت اور غربت میں کمی کی بجائے روز بروز اضافہ کیا جاتا ہے۔
عوام کو خوشحال بنانے کا سیاسی راستہ حق خودمختاری کے حصول میں ہے۔ سیاست کے میدان میں دلال بھی ہیں جن سے نجات حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ عوام ایک ایسی پارٹی کا انتخاب کرے جو حقیقی معنوں میں حق خودارادیت حاصل کرنے کا جذبہ اور عوام کے دکھ کو سکھ میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے ذاتی گروہی اور فرقوی مفادات سے بالاتر ہو کر بلوچستانی عوام کے وسیع تر مفادات کو مدنظر رکھ کر سیاسی خطوط کو درست سمت میں استوار کیا جائے۔ حق خود مختاری کی جدوجہد میں ہر قوم ہر قبیلہ ہر نسل ہر عقیدہ اور ہر زبان والوں کو مل کر اپنی ریاست کو ایک مثالی ریاست بنانے کے لئے اٹھ کھڑے ہونے ہوں گے اور ایک ایسی قیادت کے ہاتھ کو مضبوط کرنا ہوگا جو سچا ہو، ہمدرد ہو، بہادر اور دانا ہو۔ جب تک ہم بلوچستان میں برادر اقوام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں کریں گے اور تقسیم در تقسیم رہیں گے تب تک امن اور خوشحالی کا حصول ایک خواب ہی رہے گا لیکن ہمیں سیاسی بیدار رہنا ہوگا حقیقت کا سامنا کرنا ہو گا۔ ایک ایسی قیادت کی تلاش ہر سیاسی ورکر پر لازم ہے جس کے ساتھ وہ درست راستے پر چل سکے اور حقیقی منزل پر پہنچ سکے۔ میرے خیال میں فی زمانہ سردار اختر جان مینگل میں وہ توانائی اور دانائی بدرجہ اتم موجود ہے جو سیاست کے بدن سے جھوٹ کا لبادہ اتار کر سچ کا جامہ پہنا رہا ہے۔ گو کہ قبلا میں نے عالمی سرداری اور جاگیرداری نظام کے خلاف قلم اٹھایا ہے مگر ضروری نہیں کہ ہر سردار استحصالی نظام کا آلہ دست رہا ہو دیکھنے والی آنکھیں گفتار اور کردار سے پہچان لیتے ہیں۔ اس خطے میں تاریخ کے وہ ہیرو جنہوں نے اپنی سرزمین کی حفاظت اور عوام کی آبرومندانہ زندگی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیے ہیں ان میں سردار اور سردار زادوں کے نام بھی آتے ہیں جس کی بہادری اور فداکاری کی کہانی بلوچ پشتون اور ہزارہ اقوام کے فولک گیتوں میں اعلی مقام پا چکے ہیں۔ سردار اختر جان مینگل ایک روایتی سردار نہیں بلکہ ایک علامتی سردار ہیں۔ میری نظر میں ریاست کی دفاع، عوام کے حقوق کی حفاظت اور زمین کے لئے حق خود ارادیت کا حصول ہی سیاست کی بنیادیں ہیں اور ان بنیادوں پر سیاست کرنا عبادت ہے جو برادر اقوام کو جوڑ کر رکھے۔ محبت سے۔ ۔ ۔ نا کہ توڑ کے رکھ دے۔ نفرت اور تعصب سے۔

تو برائے وصل کردن آمدے
نے برائے فصل کردن آمدے

نسیم جاوید
نسیم جاوید

0

User Rating: 5 ( 1 votes)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *