اکبرصاحب! آپ ہزارہ اتنے بزدل کیوں ہیں؟

“کل شام کوئٹہ کی صورتحال سے متعلق لاہور کے ایک صحافی، جو کہ نامی گرامی شاعر بھی ہیں، انھوں نے مجھ سے کچھ سوالات پوچھے۔ بنیادی طور پر وہ جاننا چاہ رہے تھے کہ اصل صورتحال کیا ہے تاکہ وہ حقائق پر مبنی اپنا کالم لکھ سکیں۔ بہت سارے صحافیانہ اور عامیانہ سوالات میں ایک سوال ان کا یہ تھا کہ “ہزارہ قوم اتنی بزدل کیوں ہے؟”۔ (سوال کا لیول دیکھئے)۔ میں نے ان سے جو کہا سو کہا، بہرحال آپ سے بھی شئیر کرنا چاہتا ہوں تاکہ اور بھی اگر صحافی جو ان جناب کی طرح کبھی کوئٹہ گئے ہی نہیں اور صرف نام سنا ہے، اسی طرح کے سوال اگر وہ بھی پوچھنا چاہ رہے ہیں، تو ان کی بھی تشفی ہوجائے۔ جناب شاعر گرامی اور صحافی صاحب! پہلی بات یہ واضح ہونی چاہئے کہ “بزدلی” اور “بہادری” کی جو تعبیر آپ کے ذہن میں ہیں، وہ کیا ہیں۔ اگر آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ہزارہ قوم کیوں اپنے جسم سے بم باندھ کر بے گناہوں میں پھٹتی نہیں، تو سن لیجئے کہ ہم تو کبھی اپنے جسم سے بم باندھ کر مساجد اور بازاروں میں نہیں پھٹتے، ہم واقعی “بزدل” ہیں۔ اگر آپ کی نظر میں بزدلی یہی ہے کہ ہم ایک ریڑھی والے، خوانچے والے اور رکشہ ڈرائیور کو بھری بازار میں قتل کرکے فرار نہیں ہوتے، تو بھی آپ درست سمجھتے ہیں، ہم کسی کو قتل نہیں کرتے، ہم واقعی “بزدل” ہیں۔ اگر آپ نے کبھی بھی نہیں سنا کہ ایک ہزارہ نے اپنے سے مختلف فرقہ رکھنے والے لوگوں کی مسجد میں بم رکھا ہے، تب بھی آپ حق ہر ہیں، ہزارہ “ بزدل” ہے۔ آپ نے یہ بھی کبھی نہیں پڑھا یا سنا کہ ایک غریب سبزی والے غیر ہزارہ کو ہم نے اپنے علاقے میں سبزی بیچنے دیا اور قتل نہیں کیا، تب بھی آپ کا ہمارے بارے میں خیال بالکل درست ہے، ہم واقعی “بزدل” ہیں۔ یا پھر شاید آپ کے ذہن میں یہ بات ہوگی کہ جب ہمیں سو سو لاشوں کا تحفہ دیا گیا تو ہم نے اپنی لاشوں کی تدفین سے اس وقت تک انکار کردیا جب تک ہمارے مطالبے پر حکومت گرا نہیں دی گئی، آپ پھر بھی حق بجانب ہیں، ہم واقعی “بزدل” ہیں۔ یا پھر شاید آپ یہ سوچتے ہیں کہ جب بھی ہماری لاشیں گرائی جاتی ہیں، ہم دھرنا دیتے تو ہیں لیکن ہمارے احتجاج کے دوران میں شہر بھر میں کسی کا ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹتا، تو بھی آپ کا ہمارے بارے میں نظریہ درست ہے، ہم نے واقعی اپنے کسی احتجاج کے دوران غریبوں کی املاک پر حملہ نہیں کیا، لوگوں کی جائیدادوں کو آگ نہیں لگائی۔ ہم واقعی “بزدل” ہیں۔ کیا پتہ یہ سوال کرتے وقت آپ کے ذہن میں یہ بات آئی ہو کہ ہزارہ قوم نے تو کبھی کسی کھیل کے میدان میں کھیلنے والے کھلاڑیوں پر فائرنگ بھی تو نہیں کی ہے، ہاں اگر یہ بات ہے، تب آپ درست سوچتے ہیں، ہم نے ایسا نہیں کیا ہیں، ہم واقعی “بزدل” ہیں۔ کیا پتہ کہ آپ یہ سوچتے ہوں کہ ہم نے کبھی کسی انسان کے ہاتھ پُشت پر باندھ کر انھیں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح نہیں کیا، اس معاملے میں آپ بالکل حق بجانب ہیں، ہم نے کبھی ایسا کام نہیں کیا ہیں۔ ہم واقعی “بزدل” ہیں۔ اگر آپ نے یہ سنا ہیں کہ ہماری یونیورسٹی جانے والی لڑکیوں کی تعداد، ہمارے لڑکوں کی نسبت زیادہ ہے، تو آپ سو فیصد درست ہیں۔ ہم اس معاملے میں بھی “بزدل” ہیں۔ تعلیم کے میدان میں ہماری لڑکیاں واقعی لڑکوں سے آگے ہیں۔ یا پھر شاید یہ کہ پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے جوانوں کی یہ بھی کوشش ہے کہ وہ آکسفورڈ، کیمبرج اور ہارورڈ وغیرہ میں جگہ بنالیں، اگر ایسا ہے، تب بھی آپ ٹھیک سمجھتے ہیں، ہم واقعی “بزدل” ہیں۔ اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ اولمپک کھیلوں میں تین مرتبہ مسلسل پاکستان کی نمائندگی کرنیوالے ہزارہ کھلاڑی سید ابرار کو بہت بے دردی سے کوئٹہ میں قتل کیا گیا، لیکن ہمارے جوان لڑکے اور لڑکیاں پھر بھی مختلف بین الاقومی کھیلوں میں مسلسل پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں، تو جناب! ہماری یہ “بزدلی” بھی حقیقت رکھتی ہے۔ ہم تو “کافر، کافر” کے نعرے لگا کر کسی پر بھونکتے بھی نہیں، اس کو بھی ہماری “بزدلی” ہی شمار کیجیے۔ گزشتہ بیس سالوں میں اپنے اوپر پندرہ سو درج شدہ حملوں کے بعد بھی جب ہم پاکستانی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر جینے کا حق مانگتے ہیں اور عدالتوں کا دروازہ کھٹکٹھا کر انصاف مانگتے ہیں، یہاں تو آپ بالکل ٹھیک سمجھتے ہیں ، ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ ہم واقعی “بزدل” ہیں۔ ہمارے اوپر حملہ جس نام سے بھی ہو، چاہے وہ کسی “لشکر” کی جانب سے ہو، یا کسی بھی سگ گروہ کی جانب سے، ہم تو ریاست کو جانتے ہیں۔ ہم تو ریاست ہی کو ذمہ دار کہتے ہیں اور کہتے رہیں گے۔ اگر ہمارا یہ شیوہ آپ کی نظر میں “بزدلی” ہے، تو اچھی طرح جان لیجئے کہ ہم “بزدل” ہیں۔

اکبر علی
اکبر علی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *