© NMPak | Africuz

ازادی مولوی اور بند گلی

‎اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ، ناموس رسالت کی دفاع کا نعرہ اور ایک مولوی کی سربراہی میں احتجاجی مظاہرہ بہت سے سوالوں کو جنم دے رہے ہیں۔ اس احتجاج کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ کیا آزادی کی جدوجہد اپنے مقاصد حاصل کر سکے گی؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی “آزادی” ہے جس کے لئے مولانا فضل الرحمان حکومت گرانے کا عزم لے کر میدان کارزار میں کود پڑے ہیں؟ ایک مرتبہ تو ہم “دو قومی نظریے” کی کمزور بنیادوں پر انگریزوں سے آزادی حاصل کر چکے ہیں جس کی جشن ہم بہتر سالوں سے منا رہے ہیں۔ اب پھر کون سی آزادی رہ گئی ہے جس کو حاصل کرنا ہے؟ ابھی تک پہلی آزادی ہمیں پوری طرح نصیب نہیں ہوئی ہے کیونکہ ملکہ برطانیہ خود تو چلی گئیں مگر اقتدار کا ڈنڈا اپنے بنائے ہوئے جرنیلوں اور کرنیلوں کے ہاتھ میں دے گئی۔ دیکھا جائے تو ابھی تک ہم اسی ڈنڈے کے غلام ہیں ہمیں اس سے پیار بھی ہے جو ہماری محافظ بھی کہلاتے ہیں ہم غلامی کی زنجیر کو ہار بنا کر گلے میں ڈالتے ہیں اور وقتا فوقتا اس کو چمکاتے رہتے ہیں جس کا صلہ ہمیں غربت جہالت اور ناانصافی کی صورت میں مل رہا ہے۔ ہم غلامی سے محبت بھی کرتے ہیں اور غلامی سے شدید نفرت بھی۔ آزادی کا خواب بہت سہانا ہوتا ہے کیا مولانا صاحب ہمیں حقیقی آزادی کی تعبیر دے سکتے ہیں؟ غربت سے آزادی، جہالت سے آزادی قرضوں سے آزادی، معاشی بدحالی سے آزادی اور ناانصافی سے آزادی دلا سکتے ہیں؟ کیا مولانا کے پاس وہ فارمولا ہے جو ہمیں ان حقیقی آزادیوں سے ہمکنار کرے یا یہ محض ایک سیاسی پاور شو ہے جس کو مہنگے دام فروخت کیا جائے گا؟
تاریخ گواہ ہے کہ آج تک کسی مولوی، پادری یا پنڈت نے نہ آزادی کی تحریک چلائی ہے اور نا ہی کہیں عوامی انقلاب برپا کیا ہے بلکہ وہ خود ایسے کردار ہیں جو بادشاہت اور آمریت کی ترویج اور پشت پناہی کرتے رہے ہیں۔ رابرٹ فلمر ایک بنیاد پرست عیسائی تھا جس کا کہنا تھا کہ “آزادی کی خواہش ایک ناپاک جذبہ ہے” یعنی جب تک آپ اس جذبے کو مار کر دفن نہیں کریں گے آپ آمریت کے لئے ایک خطرہ بنے رہیں گے چاہے وہ مذھبی آمریت ہو یا فوجی آمریت۔
یہ جاننا مشکل ہے کہ مولانا فضل الرحمان ہمیں کونسی آزادی دلانا چاہتے ہیں؟ بظاہر تو انہیں عمران خان کی شکل و صورت ناپسند ہے اس لئے وہ اس پر توہین رسالت کا الزام لگا کر عوام کو ان کی حکومت سے آزادی دلانے کا عزم لے کر نکلے ہیں جبکہ خرابی عمران خان کی شکل و صورت میں نہیں نظام میں ہے۔ اگر غور کیا جائے تو اپنی فطرت میں عمران خان بھی تو عاشق رسول ہیں اور جو ریاست مدینہ کی طرز پر ریاست تشکیل دینے کا عزم بھی رکھتے ہیں دونوں جانب مولوی ہیں ایک کلین شیو مولوی اور دوسرا داڑھی والا مولوی۔ پاکستانی عوام کے درد و غم اور اصل مسائل سیاست دانوں کی شکلیں نہیں بلکہ غربت اور جہالت ہے جس کی وجہ سے ان کے اندر مزاحمتی جذبات اور غم و غصے کا لاوا پکتا رہتا ہے اور یہی لاوا حقیقی اور خونی انقلاب بن کر ابلتا ہے اسی لاوے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کبھی تبدیلی اور کبھی آزادی اور تحفظ رسالت کے نعرے بلند کئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ناموس رسول ہرگز خطرے میں نہیں بلکہ ناموس امت خطرے میں ہے بلوچستان یونیورسٹی میں ناموس امت پر ہاتھ ڈالنے کا حالیہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے اور ثبوت بھی کہ اسلامی ملک میں مسلمانوں کے ناموس محفوظ نہیں مگر افسوس کہ اصل ایشوز کو دبانے کے لئے فرضی ایشوز کو سامنے لائے جاتے ہیں تاکہ عوام کے مزاحمتی جذبات اور غم و غصے کو غلط سمت دے کر سرد کیا جا سکے۔ پہلے عمران خان کے تبدیلی کے نعروں سے عوام کے انقلابی جذبات کو ٹھنڈا کیا گیا اور اب مولانا صاحب ناموس رسول کے نام پر معاملہ ٹھنڈا کر نے میں مگن ہیں جبکہ حقیقی مسائل بیروزگاری بے ناموسی مہنگائی ناانصافی اور معاشی بدحالی بدستور اپنی جگہ موجود ہیں یہی اصل ایشوز ہیں یہی اصل اجتماعی درد اور عوامی دکھ ہے جس پر آواز اٹھانا اور جس پر بات کرنا ضروری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ناموسِ رسالت کو نہ کل خطرہ تھا نہ آج کوئی خطرہ ہے اور نہ آئندہ رہے گا البتہ ناموسِ امت کل بھی لٹتی تھی آج بھی لٹ رہی ہے اور کل بھی شاید لٹتی رہے گی۔
ترقی یافتہ اقوام، فطرت کو تسخیر کرنے میں لگی ہیں مگر ہم ابھی تک مولانا فضل الرحمان کے چہرے میں رسول خدا کا چہرہ تلاش کر رہے ہیں، اپنے عقیدے کی تسکین کررہے ہیں اور ایک مولوی سے آزادی دلانے اور دنیا و عقبی کو بہتر بنانے کی آس لگائے بیٹھے ہیں جبکہ مولانا صاحب خود کو رسول اللہ کا ہمشکل بنا کر اس کا سیاسی فایدہ اٹھا رہے ہیں۔ مصیبت یہ بھی ہے کہ ہم نے عقیدہ اور جذبات کو سیاست کا محور سمجھ لیا ہے عام لوگوں کی اکثریت سیاست دانوں سے عقیدت اور ارادتمندی رکھتے ہیں اور ان سے اپنی حاجات کی برآوری کی امید بھی لگاتے ہیں جبکہ سیاست سائنس ہے نا کہ عقیدہ۔ سیاست کا محور “مقاصد اور منشور” ہیں نا کہ ارادتمندانہ جذبات۔ ہم سیاست دانوں کی سیرت کی بجائے ان کی شکل و صورت کے عاشق بن چکے ہیں۔ بھٹو، نواز شریف ، زرداری وغیرہ کی شکلیں مختلف ہیں مگر ان کے باطن ایک ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمان وزیر اعظم عمران خان کو تبدیل کرنے اور اس کی جگہ کسی اور کو حکومت دلانے کو “آزادی کی تحریک” سمجھتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے اگر وہ نظام کو تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے تو اس احتجاج سے کسی بنیادی تبدیلی کی توقع رکھنا عبث ہے۔ میرے خیال میں یہاں عوام کے لئے حقیقی آزادی کا کلیہ کسی کے پاس نہیں ہے کیونکہ ہم سیاست کو تجارت اور دین کو سیاست بنا کر بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔

نسیم جاوید
نسیم جاوید

0

User Rating: Be the first one !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *